اولاد نرینہ پر تحقیق۔۔۔🍀

اولاد نرینہ کے حصول کیلیئے مرد کو اسپرم ٹیسٹ کروالینے چاہیئیں۔
کہ آیا ان کی تعداد پوری ہے اور مادہ منویہ تیزابی نہیں۔ یاد رکھیں ایکٹو اسپرمز کی تعداد 80% سے اوپر ہونی چاہیئے اور منی الکلائین ہونی چاہیئے، کیونکہ تیزابیت والی منی میں جراثیم مر جاتے ہیں اور اسپرم کی تعداد کم ہوجاتی ہے۔

جب اسپرمز اس معیار پہ پورے اتر جائیں تو میاں بیوی دونوں کو چاہیئے کہ مخاطی اعصابی (سرد تر) غذائیں حمل سے تین ماہ قبل شروع کردیں۔

اس تدبیر سے مرد کی منی میں اسپرمز کثیر تعداد پیدا ہوجائیں گے اور عورت کا رحم بھی نطفہ قبول کرنے کے لیئے تیار ہوجائے گا۔

اس وقت مرد کو جریانول یا کوئی اچھا مغلظ استعمال کروا جاسکتا ہے۔

نسخہ جریانول:

ھوالشافی۔
سمندرسوکھ۔۔۔۔۔۔۔چارسو گرام۔
تالمکھانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تین سو گرام۔
تخم اوٹنگن۔۔۔۔۔۔۔۔تین سو گرام۔

باریک سفوف کرلیں اور پانچ گرام صبح شام خالی پیٹ ہمراہ دودھ نیم گرم دین۔

یاد رہے اولاد نرینہ پیدا کرنا مرد کے ذمہ ہے۔ عورت کے بیضہ میں XX کروموسومز ہوتے ہیں۔ جبکہ کہ مرد کی منی میں کروموسومز کے جنسی جوڑے XY ہوتے ہیں۔

مرد کا جو بھی جنسی کرومو سوم طاقتور ہوگا وہی عورت کے جنسی کروموسومز سے جوڑا بنائے گا۔

بتائی گئی غذاء سے مرد کے Y کروموسومز طاقتور ہوجاتے ہیں اور بیٹا پیدا ہوتا ہے۔

اگر مرد کی منی میں یہ خواص نہ ہوں تو اسے معالج کی ضرورت ہوتی ہے۔

معالج کا کردار:
معالج کا ذمہ ہے کہ سب سے پہلے اسپرمز ٹیسٹ کروائے۔ ان کی تعداد، قوام اور PH ٹھیک کرنے کی ادویہ دے۔

سرد تر مزاج میں منی کی پیدائش ہوتی ہے۔ سرد خشک مزاج سے منی گاڑھی ہوتی ہے۔ خشک سرد مزاج سے سپرمز ایکٹو ہوکر ان کے Y کروموسومز طاقتور ہوجاتے ہیں۔

مرد کے ساتھ ساتھ اگر عورت کے رحم میں کوئی نقص ہو تو اسے ٹھیک کرنا بھی علاج کا حصہ ہے۔

مباشرت کا طریقہ برائے اولاد نرینہ:
طب قدیم کے مطابق عورت کو ایک ماہ دائیں اووری سے اور دوسرے ماہ بائیں اووری سے بیضہ آتا ہے۔

اب اگر بیضہ دائیں اووری سے آیا ہوتو اولاد نرینہ ہوگی اور بائیں اووری کا بیضہ فرٹیلائز ہونے سے لڑکی ہوگی۔

اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمبستری کے بعد مرد عورت کے دائیں طرف سے اترے اور عورت دائیں کروٹ لیٹی رہے اس طرح منی دائیں بیضہ دانی کی طرف ڈھلوان کے سبب چلی جائے گی۔

اگر لڑکی کی خواہش ہو تو بائیں کروٹ کو اپنایا جائے گا۔ دائیں کروٹ کا فارمولا استعمال کرنے سے منی دائیں فیلوپین ٹیوب کی طرف رجوع کرے گی اور ادھر سے آئے ہوئے بیضہ کو بارور کرے گی۔

لیکن اگر اس ماہ بیضہ بائیں اووری سے اترا تو مندرجہ بالا تدبیر سے وہ ماہ خالی چلاجائے گا اور حمل قرار نہ پائے گا۔۔

اسپرم یوٹرس کے اندر ایک ہفتہ تک زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر اس کیلیئے اسپرم کو رحم و فیلوپین ٹیوبز میں الکلائین رطوبات کا ماحول میسر ہونا چاہیئے۔

جس وقت بیضہ خصیئہ الرحم سے ریلیز ہوکر فیلوپین ٹیوب میں آتا ہے تو اس کے ساتھ ایک الکلائین رطوبت بھی خارج ہوتی ہے جو اسپرم کو زندہ رہنے کیلیئے مدد فراہم کرتی ہے۔

اسپرم کو وہی الکلائین ماحول فراہم کرتی ہے جو مردانہ خصیئے میں ہوتا ہے۔
بیضہ ریلیز ہونے سے پہلے اور ریلیز ہونے کے 36 سے 72 گھنٹہ زندہ رہنے کے بعد بیضہ مردہ ہونے سے فیلوپین ٹیوب میں تیزابیت ہوجاتی ہے۔ جس کی موجودگی میں اسپرم زندہ نہیں رہ پاتا۔ اس دوران عورت کے رحم سے ترشح پانے والی رطوبت تیزابی ہوتی ہے جو اسپرم کیلیئے مہلک ہوتی ہے۔ تمام اسپرم وہاں ڈیڈ ہو جاتے ہیں۔

حیض شروع ہونے کے دس دن بعد بیضہ اترتا ہے اس لئے حیض سے دسویں تا تیرھویں روز تک ہمبستری ہونی چاہیئے۔

حمل قرار پانے سے رحم و فیلو پین ٹیوبز کا ماحول الکلائین ہوجاتا ہے۔

حمل کے 36 ہفتے ہوتے ہیں۔ فالتو دن وہی ہیں جو حیض کے بعد بیضہ اترنے میں لگتے ہیں۔

حمل ہوجانے کے چھے ہفتے تک جنین میں جنسی اعضاء کی پیدائش نہیں ہوتی۔ چھٹے ہفتے میں بازو ٹانگیں پلیسینٹا کی جھلی، پھیپھڑوں کی بناوٹ، دل کا مقام، دم کا آغاز، اور ایمبلیکل کارڈ کے ساتھ ساتھ جنسی اعضاء کے نشان بننے لگتے ہیں۔

جبکہ چھٹے ہفتے کے بعد جنسی اعضاء کی نمو شروع ہوجاتی ہے۔ اس دوران جنسی اعضاء دوہری خاصیت کے حامل ہوتے ہیں۔

جنین میں زنانہ و مردانہ دونوں اقسام کے جنسی اعضاء اکٹھے نشونما پارہے ہوتے ہیں۔ یہ کیفیت نوویں ہفتے تک جاری رہتی ہے۔ اس وقت جنین کو دوہرے جنسی خواص کا حامل یا بائی سیکسوئیل کہہ سکتے ہیں۔ نوویں ہفتے کے بعد نر یا مادہ اعضاء کی کوئی ایک قسم غلبہ پکڑ لیتی ہے۔ غالب جنسی اعضاء کی نشو نما جاری رہتی ہے جبکہ مغلوب جنسی اعضاء سکڑنے لگتے ہیں۔۔ کچھ ختم ہوجاتے ہیں اور کچھ کے نشان باقی رہ جاتے ہیں جیسے کہ مردوں کے سینے پہ پستان کے نشانات۔ مگر یہ مردانہ و زنانہ دونوں خواص انسان میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں شاذ و نادر بعد کی عمر میں بھی غالب جنس مغلوب ہوسکتی ہے اور لڑکی لڑکا یا لڑکا لڑکی بن جاتا ہے۔ اس طرح کے واقعات ہم اخبارات و میڈیا پہ سنتے رہتے ہیں۔

حمل کے بعد معالج کا کردار:

نوویں ہفتے سے نر و مادہ جنسی اعضاء کے بیچ مقابلے کا رجحان شروع ہوتا ہے ان میں سے ایک قسم کے اعضاء مناسب ماحول۔ غذا یا دواء کے سبب غالب ہوجاتے ہیں اور غالب اعضاء ہی جنین کی جنس کا اظہار کریں گے۔
نوواں ہفتہ سو بدلنے کیلیئے بہترین وقت ہے۔ اس وقت نرینہ پلز شروع کرواسکتے ہیں۔ نرینہ پلز کا مزاج عضلاتی مخاطی (خشک سرد) ہے۔ یہ دوا جنین کے نر جنسی اعضاء کو تقویت دے کر ان کی نشونما میں مددگار ہوتی ہے۔ اور جنین کی جنس کا تعین لڑکے کی صورت ہوجاتا ہے۔ نوویں ہفتہ سے جنسی اعضاء بالخصوص خصیئتین گردوں سے نیچے کی طرف اترنے لگتے ہیں۔ خصیئتین کے ڈیلیور ہونے کا عمل پروجیسٹرون ہارمون کی مدد سے اٹھائسویں ہفتے تک جاری رہتا ہے۔ یہی ہارمون بچے کی پیدائش پر ماں کو ولادت میں آسانی فراہم کرتا ہے۔ یعنی پروجسٹروں ہارمون سے بچہ ڈیلیور ہوتا ہے۔ چونکہ یہ گرم و تر مزاج کا زنانہ ہارمون ہے اس لیئے بچے کی پیدائش کے بعد پستان سے دودھ کے افراز میں بھی مددگار ہوتا ہے۔ اس دوران حاملہ کو الٹراساونڈ کرواتے رہنا چاہیئے اگر اٹھائسویں ہفتے تک نر جنین کے خصیئے پیٹ سے نیچے سکروٹم میں نہیں اترتے تو اسکے لیئے حاملہ کو اعصابی قشری تریاق (ٹی-5) شروع کروائیں۔ ٹی-5 سے پروجیسٹرون ہارمون کی پیدائش بڑھ جاتی ہے۔

نسخہ ٹی-5:

ھوالشافی۔۔
ریوندخطائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔50 گرام
ملٹھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔50 گرام۔
سوہاگہ سفید خام۔۔۔50 گرام
شیر مدار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔10 گرام۔

سب ادویہ پیس کر شیرمدار مکس کرکیں اور 500 ملی گرام کے کیپسول بھرلیں۔
ایک کیپسول دن میں دو سے تین بار دینا ہے۔

اٹھائسویں ہفتے تک لڑکا یا لڑکی کے جنسی اعضاء مکمل ہوجاتے ہیں۔ اس دوران جنین کو نر جنسی اعضاء کی تکمیل کیلیئے ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مدت میں ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی پیداوار کم ہوتو نر جنین کے جنسی اعضاء کی تکمیل حسب منشا نہیں ہوپاتی اور لڑکا مخنس بھی ہوسکتا ہے۔

نوویں ہفتے سے جنین کی جنس کا تعین ہونے لگتا ہے۔ اس ہفتے حاملہ کو درج زیل نرینہ پلز کا نسخہ دیا جاتا ہے۔

ھوالشافی:
مور کے پر کی اندر والی سبز اور نیلی ٹکی تین عدد لے کر قینچی سے باریک کتر لیں۔ اب اس میں نصف گرام یاقوتی۔ نصف گرام مفرح ڈال کر خوب باریک پیس لیں۔ اس سفوف کے چھے کیپسول بھر لیں۔ جب حمل کو آٹھ ہفتے گزر جائیں تو نویں ہفتے کی صبح حاملہ کو دو کیپسول نیم گرم دودھ سے کھلا دیں۔ دو کیپسول دوپہر اور دو شام کو کھلائیں۔

سارا دن دودھ اور پھلوں کے سوا کچھ نہ کھائے۔ ہر قسم کی گرم اغذیہ چوتھے ماہ تک بند کردیں۔
ان شاء اللہ لڑکا پیدا ہوگا۔

ھارمونز کا جنینی نشونما میں کردار:

دونوں قسم کی جنس کے اپنے اپنے معاون ہارمونز ہوتے ہیں۔ نر جنین کو مزید جنسی نشونما کیلیئے ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی وافر مقدار درکار ہوتی ہے جس سے نر جنین کے جنسی رجحانات اور جنسی اعضاء تکمیل پاتے ہیں۔

اگر نر جنین کو ٹیسٹوسٹیرون کی کم مقدار کا سامنا ہوتو ایسے لڑکوں کے نر جنسی رجحان میں پختگی نہیں آتی اور جنسی اعضاء کمزور۔ چھوٹے۔ ڈھیلے یا نامکمل رہ جاتے ہیں۔ اس لیئے ضروری ہے کہ حمل کے دوران حاملہ کے ھارمون ٹیسٹ کرواتے رہیں۔ جنین کی نشونما ہارمونز کی محتاج ہوتی ہے۔

30 مختلف ہارمونز حمل کے دوران خارج ہوتے ہیں۔ پلے سینٹا ان ہارمونز کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ پلے سینٹا جنین کے لیئے ہارمونز کا بڑا کنٹرول اسٹیشن ہے۔ یہ اپنے ہارمونز خود پیدا کرتا ہے۔ اور ماں کی طرف سے خون میں آنے والے ہارمونز کے نقصانات سے جنین کے بچاتا ہے۔

تھائیرائیڈ ہارمون حمل کے دوران تھائرائیڈ گلینڈ سے تھائروکسن ہارمون کی طلب بڑھا دیتا ہے۔

ایسٹروجن کا ہائی لیول پریگنینسی کے دوران ماں کے تھائرائیڈ گلینڈ کو اتنا متحرک کردیتا ہے کہ ماں اور جنین دونوں کی ضروریات پوری ہوسکیں۔ ماں کا تھائرائیڈ گلینڈ کا تھائیروکسن ہارمون آسانی سے پلے سینٹا سے گزر کر جنین پہ اثر انداز ہوتا ہے۔
تھائی روکسن ھارمون جنین کی دماغی نشونما کیلیے نہایت ضروری ہے۔ علاوہ ازیں یہ عام جسمانی نشونما میں بھی معاون ہے۔ جنین کے اعضاء کی پختگی بشمول پھیپھڑوں کی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کمزور تھائرائیڈ گلینڈ والی ماں کے ہاں ایبنارمل بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ جنین میں تھائرائیڈ ہارمون اس کی ذہنی نشونما کیلیئے لازمی ہوتا ہے لیکن خطرناک صورت حال اس وقت سامنے آتی ہے جب ماں کا تھائرائیڈ گلینڈ تھائروکسن ہارمون کی مطلوبہ ضرورت پوری نہیں کرسکتا۔

ماں میں تھائرائیڈ گلینڈ کی کمزوری سے درج زیل نقصانات ہوسکتے ہیں:

1۔ حمل کا ضائع ہوجانا۔
2۔ بچے کا وزن کم ہونا۔
3۔ بچہ ذہنی ایبنارمل پیدا ہونا
5۔ بچے کے پھیپھڑے، دماغ اور دیگر اعضاء کی نامکمل نشونما ہونا۔

اس بیماری کا سبب آٹوامیون ڈزیز ہے جس میں اینٹی تھائرائیڈ اینٹی باڈیز، پلے سینٹا سے گزر کر جنین کے تھائرائیڈ گلینڈ کو نقصان پہنچاتی ہے۔

ہائپوتھائرائیڈازم کا بے اولادی سے گہرا تعلق ہے۔ اس مرض کیلیئے ایلوپیتھی میں آئیوڈین سپلیمنٹ اور آئیوڈین ملا نمک دوران حمل تجویز کیا جاتا ہے۔

جنین کی گروتھ میں انسولین اہم رول ادا کرتی ہے۔ جنین کا لبلبہ دسویں ہفتہ میں انسولین کی پیدائش شروع کردیتا ہے۔ ماں کی انسولین پلےسینٹا سے نہیں گزر سکتی۔ اس لیئے جنین کو اپنی انسولین کی ضروریات خود پورا کرنی ہوتی ہیں۔

جنین کے خون میں انسولین کا لیول گلوکوز کے ارتکاز سے کنٹرول ہوتا ہے جو ماں کے خون میں گلوکوز لیول کے راست متناسب ہوتا ہے۔

ماں کی زائد بلڈ شوگر بچے کی قبل از وقت پیدائش کا سبب بن سکتی ہے۔

جب کہ جنین میں انسولین کی کمی اس کی شرائین کو تنگ اور سخت کرنے کا سبب بنتی ہے۔

پروسٹیٹ ہارمون جنین کے کارڈیوپلمونری سسٹم کی میچوریٹی کرتا ہے۔

جنین میں شرائین کی بناوٹ اور پھیپھڑوں کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔پروسٹا گلینڈ D-2 پروسٹاسائکلین کی ساتھ مل کر پیدائش کے فوراً بعد بچے میں سانس کا نظام متحرک کرتا ہے۔ یہ ہارمون بچے کی پیدائش کے عمل میں بھی معاون ہے۔

پروجیسٹرون ہارمون جنین کی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ماں کے مدافعتی امیونی عمل کو جنین کے اینٹی جنز کے خلاف متحرک ہونے سے روکتا ہے۔

گلوکوکارٹی کوائیڈز جنین کی نشونما کیلیئے بہت ضروری ہیں جنین کا اپنا کارٹی سول اور کارٹی سون جنین کی پختگی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔
جنین میں ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کا لیول اس کی جنسی تخصیص واضح کرتا ہے۔

جنین میں ٹیسٹوسٹیرون مردانہ رجحان پیدا کرتا ہے اور مردانہ جنسی اعضاء کی نشونما کرتا ہے۔ اگر فی میل جنین کو ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی اضافی مقدار ملے تو اس لڑکی میں پستانوں کی نشونما کم رہ جاتی ہے اور مردانہ خصوصیات کے ٹشوز باقی رہ جاتے ہیں۔

آب معلوم یه کرنا ھے که دائیں اووری سے نرینه اور بائیں اووری سے لڑکی کا بیضه اترتا ھے اس بات کی نشاندھی کا کوئی طریقه جس سے معلوم ھوسکے که اس ماه کونسا بیضه اترے گا۔۔

ویسے تو اس بات کا کوئی میڈیکل ٹیسٹ سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہوکہ اس بار کس اووری سے بیضہ اترا ہے یا اتر رہا ہے۔
شائد مستقبل قریب میں ہم سائنسی طور پہ اس کی جانچ کرسکیں۔

میرا خیال ہے کہ ماہواری شروع ہونے کے دس دن بعد جس اووری سے بیضہ اترنا ہو وہاں دوران خون بڑھنے سے از طرف کی اووری یعنی بیضہ دانی کا سائز نارمل سے کچھ بڑھ جاتا ہوگا۔ تو ماہواری کے نوویں دسویں روز USG سے بیضہ دانیوں کی صورت حال سامنے آسکتی ہے۔ بحرحال اس آئیڈیا پہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔

مگر عورت کو خود محسوس ہوجاتا ہے کیونکہ عورت کو ماہواری کے بعد دائیں یا بائیں اووری جدھر سے بیضہ اترنا ہوتا ہے ادھر ہلکی حرارت اور رگوں میں خون کی ہلکی سی تڑپ دو تین دن تک محسوس ہوتی ہے جو اس بات کی نشانی ہے کہ اس طرف بیضہ کی موومنٹ ہو رہی ہے۔

نیز پریگنینسی کے بعد عورت کی دائیں ٹانگ کھج جائے تو سمجھ لیں کہ بیضہ دائیں اووری سے اترا تھا اسی طرح بائیں ٹانگ کا کھچنا بائیں اووری سے بیضہ اترنے کی علامت ہے۔

تحریر و تحقیق۔
ڈاکٹر سید رضوان شاہ گیلانی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s